منظور پشتین کی سینیٹ کی ثالثی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت

0
25

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے وفد کے ہمراہ سینیٹ کی خصوصی ثالثی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی اور گرفتار کارکنان کی رہائی سمیت وزیرستان میں کرفیو کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

سینیٹ کی خصوصی ثالثی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر بیرسٹر محمد علی خان سیف کی زیر صدارت منقد ہوا جس میں اراکین سینیٹ ستارہ ایاز، دلاورخان اور سجاد طوری شریک ہوئے جبکہ پشتون تحفظ موومنٹ کے وفد نے منظور پشتین کی سربراہی میں شرکت کی۔

اجلاس میں منظور پشتین نے کہا کہ اتوار کو شمالی وزیرستان میں پیش آنے والے واقعہ کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ ہے جس کے باعث زخمیوں کو ابھی اسپتال منتقل نہیں کیا جاسکا اور علاقے میں غذائی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

منظور پشتین نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں پیش آنے والے واقعہ کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کرنے والے کارکنان کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ علی وزیر اور محسن داوڑ سمیت پشتون تحفظ موومنٹ کے تمام گرفتار کارکنان کو رہا کیا جائے۔

کمیٹی نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے جائز مطالبات متعلقہ حکام تک پہنچائے جائیں گے۔


خصوصی ثالثی کمیٹی نے دونوں جانب سے غلط فہمیاں دور کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاملات کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھا کر مثبت حل نکلنا چاہیے۔ فوج ہمارے ملک کی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ہے۔

ثالثی کمیٹی نے پی ٹی ایم سے رابطوں کیلئے پانچ ارکان نامزد کر دیئے جن میں بیرسٹر سیف، ستارہ ایاز، دلاورخان اور سجاد طوری شامل ہوں گے۔

اتوار کو شمالی وزیرستان میں خڑ کمر چیک پوسٹ پر پشتون تحفظ موومنٹ اور پاک آرمی کے درمیان مبینہ ’فائرنگ کے تبادلہ‘ میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 5 اہلکاروں سمیت 15 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ بعد ازاں رات گئے آئی ایس پی آر نے اطلاع دی کہ تصادم کے مقام سے ذرا فاصلے پر مزید 5 شہریوں کی لاشیں ملی ہیں۔

پاک فوج نے حملے کا الزام پشتون تحفظ موومنٹ پر عائد کردیا ہے جبکہ پی ٹی ایم کے رہنما ان الزامات کی تردید کر رہے ہیں۔ واقعہ کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ اراکین اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ سمیت پشتون تحفظ موومنٹ کے درجنوں کارکنان کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا ہے۔


اتوار کو شمالی وزیرستان میں خڑ کمر چیک پوسٹ پر پشتون تحفظ موومنٹ اور پاک آرمی کے درمیان مبینہ ’فائرنگ کے تبادلہ‘ میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 5 اہلکاروں سمیت 15 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ بعد ازاں رات گئے آئی ایس پی آر نے اطلاع دی کہ تصادم کے مقام سے ذرا فاصلے پر مزید 5 شہریوں کی لاشیں ملی ہیں۔

پاک فوج نے حملے کا الزام پشتون تحفظ موومنٹ پر عائد کردیا ہے جبکہ پی ٹی ایم کے رہنما ان الزامات کی تردید کر رہے ہیں۔ واقعہ کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ اراکین اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ سمیت پشتون تحفظ موومنٹ کے درجنوں کارکنان کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا ہے۔

دلاورخان اور سجاد طوری شریک ہوئے جبکہ پشتون تحفظ موومنٹ کے وفد نے منظور پشتین کی سربراہی میں شرکت کی۔

اجلاس میں منظور پشتین نے کہا کہ اتوار کو شمالی وزیرستان میں پیش آنے والے واقعہ کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ ہے جس کے باعث زخمیوں کو ابھی اسپتال منتقل نہیں کیا جاسکا اور علاقے میں غذائی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

منظور پشتین نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں پیش آنے والے واقعہ کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کرنے والے کارکنان کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ علی وزیر اور محسن داوڑ سمیت پشتون تحفظ موومنٹ کے تمام گرفتار کارکنان کو رہا کیا جائے۔

کمیٹی نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے جائز مطالبات متعلقہ حکام تک پہنچائے جائیں گے۔

خصوصی ثالثی کمیٹی نے دونوں جانب سے غلط فہمیاں دور کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاملات کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھا کر مثبت حل نکلنا چاہیے۔ فوج ہمارے ملک کی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ہے۔

ثالثی کمیٹی نے پی ٹی ایم سے رابطوں کیلئے پانچ ارکان نامزد کر دیئے جن میں بیرسٹر سیف، ستارہ ایاز، دلاورخان اور سجاد طوری شامل ہوں گے۔

اتوار کو شمالی وزیرستان میں خڑ کمر چیک پوسٹ پر پشتون تحفظ موومنٹ اور پاک آرمی کے درمیان مبینہ ’فائرنگ کے تبادلہ‘ میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 5 اہلکاروں سمیت 15 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ بعد ازاں رات گئے آئی ایس پی آر نے اطلاع دی کہ تصادم کے مقام سے ذرا فاصلے پر مزید 5 شہریوں کی لاشیں ملی ہیں۔

پاک فوج نے حملے کا الزام پشتون تحفظ موومنٹ پر عائد کردیا ہے جبکہ پی ٹی ایم کے رہنما ان الزامات کی تردید کر رہے ہیں۔ واقعہ کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ اراکین اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ سمیت پشتون تحفظ موومنٹ کے درجنوں کارکنان کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here